لندن،28؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)بہت سے لوگ بیٹھ کر کام کرنے کو اپنے لیے سہولت اور نعمت خیال کرتے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ دیر تک مسلسل بیٹھے رہنا باعث ہلاکت ہے کیونکہ دیر تک بیٹھنے سے سالانہ ساڑھے تین لاکھ کے قریب لوگ لقمہ اجل جاتے ہیں۔ ماہرین صحت کی جانب سے 10سال کی طویل عرق ریزی کے بعد 54ممالک میں کی گئی تحقیق کے چشم کشا نتائج جاری کیے گئے ہیں اور بتایا ہے کہ ہرسال موت کے منہ میں چلے جانے افراد میں 3.8فی صد ایسے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جن کی موت کا سبب کوئی بیماری نہیں بلکہ مسلسل بیٹھے رہنا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں تشویشناک امر یہ ہے کہ لبنان میں بیٹھنے سیہونے والی ہلاکتیں دنیا بھرمیں سب سیزیادہ ہیں جہاں 11.6فی صد افراد فوت ہوجاتے ہیں۔بیٹھے رہنے سے متعلق 12 سطری ایک رپورٹ حال ہی میں امریکی ماہنامہ American Journal of Preventive Medicine میں شائع ہوئی تھی۔ اس خبر میں زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس ضمن میں مزید چھان پھٹک کی تو پتا چلا کہ اسپین اور برازیل کے ڈاکٹروں نے10سال سنہ 2002ء سے 2012ء تک دنیا کے 54ممالک میں بیٹھنے سے ہونے والی اموات کا ڈیٹا جمع کیا۔ دس سال کی تحقیق کے حیران کن نتائج سامنے آئے۔ بعد ازاں یہ تحقیق تفصیل کے ساتھ امریکی جریدہ Medical Xpress میں بھی شائع کی گئی۔اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دور حاضر میں کمپیوٹر کے بہ کثرت استعمال نے کئی پیشوں کے کام آسان بنا دیے ہیں اور لوگ مسلسل آٹھ آٹھ گھنٹے بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔ حالانکہ مسلسل تین گھنٹے تک بیٹھے رہنا موت کا سبب بن سکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ مسلسل بیٹھے رہتے ہیں اور ورزش کا بھی اہتمام نہیں کرتے وہ جلد ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ دنیا میں قریبا 31فی صد افراد ورزش نہیں کرتے اور نہ ہی ان کی کوئی دوسری جسمانی سرگرمی ایسی ہوتی ہے جسے جسم کو تحریک مل سکے۔
انسانی صحت اور طویل عمری کا ایک راز ورزش بھی ہے مگر بہت کم لوگ باقاعدگی کے ساتھ ورزش کا اہتمام کرتے ہیں۔ ہرسال 6 سے 9فی صد افراد ورزش نہ کرنے سے لاحق ہونے والی بیماریوں سے فوت ہوجاتے ہیں۔ ان میں اہم ترین سبب بیٹھنا بھی بتایا جاتا ہے۔ اسپین کی ریاست Zaragoza کی سان جارج یونیورسٹی کے8سائنسدانوں اور برازیل کی ساؤ پالو یونیورسٹی کے ماہرین کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر تحقیق کی اور بیٹھنے کے نتیجے میں انسانی صحت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا۔ ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ بیٹھنے والے افراد دوسرے لوگوں کی نسبت 0.02فی صد کم عمر پاتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا کے 60فی صد لوگ یومیہ مسلسل تین گھنٹے بیٹھے رہتے ہیں۔ اس دوران وہ کوئی جسمانی سرگرمی نہیں کرتے۔ ہرشخص اوسطا 4گھنٹے 42منٹ بیٹھتا ہے، جس کے نتیجے میں سالانہ تین لاکھ 33ہزار افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں جو کل اموات کا 3.8فی صد ہے۔ ان میں یورپی ممالک، امریکا مشرق وسطیٰ اور عرب ممالک بھی شامل ہیں۔ عرب ملکوں میں بیٹھنے سے ہونے والی اموات لبنان میں سب سیزیادہ ہیں جہاں 11.6 فی صد افراد کی موت کا سبب بیٹھے رہنا بتایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین، شام اور مصر میں بھی اسی سبب سے اموات ہوتی ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا اور امریکا میں بھی بیٹھنے سے شرح اموات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیٹھنے سے ہونے والی اموات میں لبنان 11.6فی صد کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ دوسرے نمبر پر ہالینڈ ہے جہاں 7.6فی صد بیٹھنے سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ڈں مارک میں بیٹھنے سے شرح اموات 6.9فی صد، میکسیکو میں سب سے کم 0.6فی صد، میانمار میں 1.3فی صد، بھوٹان میں 1.6فی صد ہے۔ آخر میں ماہرین یہ تجویز پیش کرتے ہیں کہ اپنے بیٹھنے کے دورانیے کو کم سے کم کرتے ہوئے دو گھنٹے پر لائیں۔ اس طرح اپ موت کے خطرے سے 50فی صد تک بچ سکتے ہیں۔